قرآن مجید میں لفظ " بیوی " کے تعلق سے اور مقدس آیت کریمہ " أفلا يتدبرون القرآن " کی عکاسی پر مشتمل دلچسپ اور انمول معلومات۔۔۔۔ - Asgar Ali Azhari

Latest

Asgar Ali Azhari

Heartly Welcome to our unique website . its Purpose to providing profitable Islamic quotes, Valuable articles and Motivational Stories through multiple languages as like English ,Arabic, Urdu and Hindi .... Thank you For visit ...

قرآن مجید میں لفظ " بیوی " کے تعلق سے اور مقدس آیت کریمہ " أفلا يتدبرون القرآن " کی عکاسی پر مشتمل دلچسپ اور انمول معلومات۔۔۔۔


قرآن مجید میں لفظ " بیوی " کے تعلق سے اور مقدس آیت کریمہ " أفلا يتدبرون القرآن " کی عکاسی پر مشتمل دلچسپ اور انمول معلومات۔۔۔۔



اردو زبان میں جسے ہم " بيوی " بولتے ہیں قرآن مجید ميں اس کے لئے تین لفظ استعمال کیے گئے ہیں اور وہ یہ ہیں۔

1- إمرأة

2- زوجة

3- صاحبة

اب آئیے ان الفاظوں کو قرآن مجید میں ذکر کے اعتبار سے ان کا مفہوم سمجھتے ہیں۔
إمرأة :
 إمرأة سے ايسی بيوی مراد ہے جس سے مرد کا( شوہر کا ) جسمانی تعلق تو ہو مگر ذہنی تعلق نہ ہو.
زوجة :
 زوجہ سے ايسی بيوی مراد ہے جس سے مرد کا( شوہر کا ) ذہنی اور جسمانی دونوں تعلقات ہوں يعنی ذہنی اور جسمانی دونوں طرح ہم آہنگی ہو۔
صاحبة :
صاحبہ سے ايسی بيوی مراد ہے جس سے مرد کا( شوہر کا ) نہ جسمانی تعلق ہو نہ ذہنی تعلق ہو۔
( یعنی صرف رجسٹرڈ میاں بیوی ہوں)

اب ذرا قرآن مجيد كی مندرجہ ذیل آيات پر غور كيجئے اور رب کے کلام کی فصاحت اور بلاغت کا ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں اور خود فیصلہ کیجیے کہ قرآن مقدس کی جیسی ایک سورت لانے سے عرب کے فرسان البلاغہ اور ماہرین لغہ کیسے اور کیوں عاجز آ گئے تھے :

1- امرأة

حضرت نوح اور حضرت لوط عليهما السلام كی بيوياں مسلمان نہیں ہوئی تھيں تو قرآن مجيد ميں ان كو
 " إمرأة نوح " اور " إمرأة لوط " كہہ كر ذكرکیا گیا ہے،

اسی طرح فرعون كی بيوی مسلمان هو گئی تھی تو قرآن نے اسكو بھی " إمرأة فرعون" کہ كر پكارا هے

  (ملاحظه كريں سورة التحريم كے آيات

 " وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلا لِّلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَةَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِن فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ "

یہاں پر شوہر اور بیوی میں جسمانی تعلق تو تھا اس لئے کہ بيوياں تهيں ليكن ذہنی ہم آہنگی نہیں تھی اس لئے کہ مذہب مختلف تھا اسی لئے رب قدیر نے إمرأة کہا ۔

2- زوجة :

 جہاں جسمانی اور ذہنی پوری طرح ہم آہنگی ہو وہاں بولا گيا جيسے

( ﻭﻗﻠﻨﺎ ﻳﺎ آﺩﻡ ﺍﺳﻜﻦ ﺃﻧﺖ ﻭ ﺯﻭﺟﻚ ﺍﻟﺠﻨﺔ )

اور نبی صلی اللّٰہ عليه و سلم كے بارے فرمايا

 ( يا ايها النبي، قل لأزواجك وبناتك ونساء المؤمنين .. )

شايد اللّٰہ تعالٰی بتانا چاہتا ہے کہ ان نبيوں كا اپنی بيويوں كے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا۔

ایک عجيب بات هے زكريا علیہ السلام كے بارے کہ جب أولاد نہیں تھی تو بولا
 ( و امرأتي عاقر .... )

اور جب أولاد مل گئی تو بولا۔
ووهبنا له يحيى وأصلحنا له زوجة.... )

اس نكتہ كو اہل عقل بخوبی سمجھ سكتے ہيں ۔

اسی طرح ابولہب كو رسوا كيا يہ بول کر

( وامرءته حمالة الحطب )

كہ اس کا بيوی كے ساتھ بھی كوئی اچھا تعلق نہیں تھا

3- صاحبة :

 جہاں پر كوئی کسی قسم کا جسمانی يا ذہنی تعلق نہ ہو

اللّٰہ تعالٰی نے اپنی ذات كو جب بيوی سے پاک کہا تو لفظ "صاحبة" بولا اس لئے كہ یہاں كوئی جسمانی يا ذہنی كوئی تعلق نہیں ہے

(ﺃﻧﻰ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻭﻟﺪ ﻭﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﻟﻪ ﺻﺎﺣﺒﺔ و خلق كل شيء)


اسی طرح ميدان حشر ميں بيوی سے كوئی جسمانی يا ذہنی كسی طرح كا كوئی تعلق نہیں ہو گا تو فرمايا

( ﻳﻮﻡ ﻳﻔﺮ ﺍﻟﻤﺮﺀ ﻣﻦ ﺃﺧﻴﻪ، ﻭﺃﻣﻪ وﺃﺑﻴﻪ ،ﻭﺻﺎﺣﺒﺘﻪ ﻭﺑﻨﻴﻪ )

کہ جس دن ادمی اپنے بھائی سے، ماں باپ سے، بیوی بچوں سے بھاگے گا "
 كيونکہ وہاں سب کو صرف اپنی فكر لگی ہو گی کوئی بھی کسی کا پرسان حال نہ ہوگا، اس لئے اس آیت میں "صاحبته" کہا،

اردو ميں ترجمہ کرتے وقت ان " إمرأتي , زوجتي , صاحبتي" سب كا ترجمہ " بيوی" ہی كرنا پڑے گا۔

ليكن ميرے رب كے كلام پر قربان جائيں جس كے ہر لفظ كے استعمال ميں كوئی نہ كوئی حكمت پنہاں ہے

اور رب تعالى نے جب دعا سکھائی تو ان الفاظ ميں فرمايا

( رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاما )


 "وأزواجنا"

یعنی لفظ زوجہ استعمال فرمايا اس لئے كہ بیوی آنكھوں کی ٹھنڈک تبھی ہو سکتی ہے جب شوہر اور بیوی کے درمیان جسمانی تعلقات كے ساتھ ذہنی بھی ھم آہنگی بھی ہو .
رب العزت رسول کریم ﷺ کے طفیل ہم سب کو قرآن پاک سمجھ کر پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اسی کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔۔۔

  رضا ازہری ♡