نماز کی اہمیت و فرضیت قرآن و حدیث کی روشنی میں - Asgar Ali Azhari

Latest

Asgar Ali Azhari

Heartly Welcome to our unique website . its Purpose to providing profitable Islamic quotes, Valuable articles and Motivational Stories through multiple languages as like English ,Arabic, Urdu and Hindi .... Thank you For visit ...

نماز کی اہمیت و فرضیت قرآن و حدیث کی روشنی میں

نماز کی اہمیت و فرضیت قرآن و حدیث کی روشنی میں


 باسمہ تعالیٰ


نماز دینِ اسلام کے بنیادی ارکان میں سےایک ہے۔ اﷲاور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان کے بعد اہم ترین رکن ہے۔ اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شبِ معراج کے موقع پر فرض کی گئی۔ قرآن و سنت 
اور اجماع کی رو سے اس کی ادائیگی کے پانچ اوقات ہیں۔
اگر ہم اس کے ظاہر وباطن پر غور کریں تو ہمیں یہ سمجھ میں آتا ہے کہ :اللہ جل سبحانہ وتعالیٰ کی بارگاہِ صمدیّت میں اس
 کے بے پایاں فضل و رحمت کی خیرات طلب کرنے کے لئے مکمل خشوع و خضوع کے ساتھ سراپا التجا بنے رہنے اور اس کی بندگی  کا حق بجا لانے کو "نماز " سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کائناتِ ارضی و سماوی کی ہر مخلوق اپنے اپنے حسبِ حال بارگاہِ خداوندی میں صلوٰۃ اور تسبیح و تحمید میں مصروف نظر آتی ہے۔ جیسا کہ سورہ النور، 24 : 41 میں باری تعالیٰ کا ارشادہے :

’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ (سب) اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں اور پرندے (بھی فضاؤں میں) پر پھیلائے ہوئے (اسی کی تسبیح کرتے ہیں)، ہر ایک (اللہ کے حضور) اپنی نماز اور اپنی تسبیح کو جانتا ہے۔‘‘

مذہب اسلام  میں نماز کی اہمیت  وفضیلت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ قرآنِ حکیم میں 92 مقامات پر نماز کا ذکر آیا ہے۔ اور متعدد مقامات پر صیغہ امر کے ساتھ (صراحۃً) نماز کا حکم وارد ہوا ہے۔ 
جیسا کہ:سورہ  (البقره، 2 : 43)میں ارشاد فرمایا گیا 


"اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ۔

سورہ طٰہٰ (طه، 20 : 14)میں ارشاد خداوندی ہے :

’’اور میری یاد کی خاطر نماز قائم کیا کرو۔‘‘

اﷲ عزوجل نے اپنے نہایت برگزیدہ پیغمبر سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں سورہ (مريم، 19 : 55) ارشاد فرمایا :

 ’’اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے اور وہ اپنے رب کے حضور مقامِ مرضیّہ پر (فائز) تھے (یعنی ان کا رب ان سے راضی تھا)‘‘

اسی طرح اَحادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں  بھی نماز کی سخت  تاکیدآئی ہے۔
حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور اس کے سوا سب کی عبادت کا انکار کرنا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اﷲ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘(مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب : بيان أرکان الإسلام ودعائمه العظام، 1 : 45، رقم : 16)

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’اﷲ تعالیٰ نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جس نے ان نمازوں کے لئے بہترین وضو کیا اور ان کے وقت پر ان کو ادا کیا، کاملاً ان کے رکوع کئے اور ان کے اندر خشوع سے کام لیا تو اﷲ عزوجل نے اس کی بخشش کا عہد فرمایا ہے، اور جس نے یہ سب کچھ نہ کیا اس کے لئے اﷲ تعالیٰ کا کوئی ذمہ نہیں، چاہے تو اسے بخش دے، چاہے تو اسے عذاب دے۔‘‘(أبو داود، السنن، کتاب الصلوٰة، باب فی المحافظة فی وقت الصلوات، 1 : 175، رقم : 425)

حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ اﷲ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’نماز کو اس کے مقررہ وقت پر پڑھنا۔‘‘(مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، 1 : 89، رقم : 85)


نماز  اس قدر اہم  فریضہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے وصال کے وقت امت کو جن چیزوں کی وصیت فرمائی ان میں سے سب سے زیادہ تاکید نماز کی فرمائی، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک پرجو آخری الفاظ بار بار آرہے تھے اس میں اسی "نماز "کی تاکید تھی :

یہ بات بھی ذہن نشین رکھیں کہ قرآن و سنت کی تعلیمات میں جہاں فریضہ نماز کی بجا آوری کو دین کی تعمیر قرار دیا گیا ہے۔ وہاں اسکا ترک کردینا دین کی بربادی اور انہدام کا موجب بتایا  گیا ہے لہٰذا جس نے اسے قائم کرلیا وہ کامیاب ہوا اور جس نے اسے گرا دیا وہ ناکام و نامراد ہوگیا۔جیسا کہ 
سورۃ (المدثر، 74 : 43 - 45)میں اﷲ تعالیٰ نے اہل دوزخ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جب ان سے پوچھا جائے گا تمہیں دوزخ میں لے جانے کا باعث کون سی چیز بنی تو وہ جواباً کہیں گے :
’’وہ کہیں گے 

ہم نماز پڑھنے والوں میں نہ تھے اور ہم محتاجوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھےاور بے ہودہ مشاغل والوں کے ساتھ (مل کر) ہم بھی بے ہودہ مشغلوں میں پڑے رہتے تھے۔‘‘

 غیاث الدین احمد عارفؔ مصباحیؔ نظامیؔ

(مہتمم) جامعہ قمرالنسا (نسواں کالج) روہنی گاؤں پالیکا وارڈ نمبر ۔۱ چین پور ،روپندیہی نیپال