بسم اللہ الرحمن الرحیم
( part 3 ) سیرتِ رسول ﷺ سوالاً جواباً
سوال:۔ (۶۶) ۔غارثورمیں حضورﷺ نےکتنےدن قیام کیا؟
جواب:۔ تین دن
سوال:۔ (۶۷) ۔مکی دورکسےکہتےہیں؟
جواب:۔ جتنا عرصہ حضورﷺ نےمکہ میں قیام کیا وہ ’’عرصہ مکی ‘‘دور کہلاتاہے۔
سوال:۔ (۶۸) ۔مدنی دورکسےکہتےہیں؟
جواب:۔ جتنا عرصہ حضورﷺ نےمدینہ منورہ میں قیام کیا وہ ’’عرصہ مدنی ‘‘دور کہلاتاہے۔
سوال:۔ (۶۹) ۔ہجرتِ مدینہ کےبعد قبا میں سب سےپہلےکیاکام کیاگیا؟
جواب:۔ مسجدکا قیام
سوال:۔ (۷۰) ۔مسجدقباءکا سنگ بنیاد کس نےرکھا۔
جواب:۔ حضورﷺ نے
سوال:۔ (۷۱) ۔مسجدجمعہ کہاں واقع ہے؟
جواب:۔ مسجدِ قباء سےمدینہ کی طرف یہ مسجدواقع ہے۔
سوال:۔ (۷۲) ۔اس مسجدکانام مسجدِ جمعہ کیوں رکھاگیا؟
جواب:۔ کیونکہ اس مسجد میں حضورﷺ نےپہلاجمعہ ادا کیاتواس کا نام بعدمیں مسجدجمعہ پڑاگیا۔
سوال:۔ (۷۳) ۔جب شہروالوں کوپتہ کوانہوں نےکیا کیا؟
جواب:۔ اہل شہر کو خبر ہوئی تو ہر طرف سے لوگ جذبات اورشوق سے استقبال کے لیے دوڑپڑے ۔
سوال:۔ (۷۴) ۔ شہرِمدینہ کےلوگوں کےاستقبال کا کیا انداز تھا؟
جواب:۔ تمام قبائل کی محبت کاشکریہ ادا کرتے اور سب کو خیر وبرکت کی دعائیں دیتے ہوئے چلے جا رہے تھے ۔
سوال:۔ (۷۵) ۔شہرِمدینہ کی پردہ نشین عورتوں نے حضورﷺ کاکس طرح استقبال کیا؟
جواب:۔ طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا کاقصیدہ پڑھتےہوئےجوش وخروش کےساتھ استقبال کیا۔
سوال:۔ (۷۶) ۔ شہرِمدینہ کی بچیوں نے حضورﷺ کاکیسےاستقبال کیا؟
جواب:۔ بچیاں یہ قصیدہ پڑھ رہی تھی کہ :واہ کیا ہی خوب ہوا کہ حضرت محمد ﷺ ہمارے پڑوسی بن گئے۔
سوال:۔ (۷۷) ۔حضورﷺ نےان کے محبت بھرےانداز کےجواب میں کیا فرمایا؟
جواب:۔ یہ سن کر حضور ﷺنے خوش ہو کر مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ''میں بھی تم سے پیار کرتا ہوں۔''
سوال:۔ (۷۸) ۔شہرِمدینہ کےچھوٹےلڑکوں اور غلاموں کا جوش کیسا تھا؟
جواب:۔ وہ خوشی سے مدینہ کی گلیوں میں حضور ﷺ کی آمد آمد کا نعرہ لگاتے ہوئے دوڑتے پھرتے تھے۔
سوال:۔ (۷۹) ۔شہرِمدینہ میں آمدکےوقت حضورﷺ کی کیا کیفیت تھی؟
جواب:۔ ایک صحابی فرماتے ہیں کہ جو فرحت و سروراور انوار و تجلیات حضور ﷺ کے مدینہ میں تشریف لانے کے دن ظاہر ہوئے نہ اس سے پہلے کبھی ظاہر ہوئے تھے نہ اس کے بعد۔
سوال:۔ (۸۰) ۔شہرِمدینہ کےاہلِ محبت کی کیا خواہش تھی؟
جواب:۔ ہرایک یہی خواہش تھی حضورﷺ میرےگھرمیں قیام فرمائیں۔
سوال:۔ (۸۱) ۔حضورﷺ نےان اہلِ محبت سےکیافرمایا؟
جواب:۔ آپ نے ان سب فرمایا کہ میری اونٹنی کی مہار چھوڑ دو جس جگہ خدا کو منظور ہو گا اسی جگہ میری اونٹنی بیٹھ جائے گی۔
سوال:۔ (۸۲) ۔شہرِمدینہ میں آمدکےبعدحضورﷺ کی اونٹنی کہاں بیٹھی؟
جواب:۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲعنہ کا مکان کےپاس۔
سوال:۔ (۸۳) ۔حضرت ابوایوب انصاری کوکتنےدن حضورﷺکی مہمان نوازی کا موقع ملا؟
جواب:۔ سات مہینے تک
سوال:۔ (۸۴) ۔شہرِمدینہ میں حضورﷺ نےاپنی رہائش کا انتظام کہاں فرمایا
جواب:۔جب مسجدِ نبوی تعمیرمکمل ہوئی تواس کےآس پاس ازواج مطہرات کےلئے حجرے تعمیرکئے گئے تو حضورﷺنےوہی قیام پذیر ہوئے۔
سوال:۔ (۸۵) ۔ہجرت کےپہلےسال یہودیوں کےکون سےعالم نے اسلام قبول کیا؟
جواب:۔ حضرت عبداﷲ بن سلام
سوال:۔ (۸۶) ۔حضرت عبداللہ بن سلام کس سبب سےمسلمان ہوئے؟
جواب:۔ حضرت عبداللہ بن سلام کہتےہیں کہ میری نظر جمالِ نبوت پر پڑی تو پہلی نظر میں میرے دل نے یہ فیصلہ کر دیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے آدمی کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔
سوال:۔ (۸۷) ۔زمانہ ٔ رسالت میں جومسجدِ نبوی کی تعمیر کی گئی اس کاطول و عرض کتنا تھا؟
جواب:۔طول ساٹھ گزاور عرض چون گز(یعنی لمبائی ۶۰گز۔۔۔ چوڑائی ۵۴گز)
سوال:۔ (۸۸) ۔ اصحابِ صفہ کسےکہتےہیں؟
جواب:۔ مسجد کے ایک کنارے پر ایک چبوترہ تھا جسے ''صفہ'' کہاگیا،اور جو صحابہ گھر بار نہیں رکھتے تھے وہ اسی چبوترہ پر سوتے بیٹھتے تھے اور یہی لوگ ''اصحابِ صفہ'' کہلاتے ہیں۔
سوال:۔ (۸۹) ۔مسجدِ نبوی کےمتصل سب سےپہلےکن امہات المؤمنین کےحجرےبنائےگئے؟
جواب:۔ اس وقت تک حضرت بی بی سودہ اور حضرت عائشہ نکاح میں تھیں اس لئے دوہی مکان بنوائے۔
سوال:۔ (۹۰) ۔ باقی ازواج کےمکانات کب بنائےگئے؟
جواب:۔ جب دوسری ازواج نکاح آتی گئیں تو ان کے مکانات بھی بنتے گئے۔
سوال:۔ (۹۱) ۔ازواجِ مطہرات کےحجروں کی کیاکیفیت تھی؟
جواب:۔ یہ مکانات بھی بہت ہی سادگی کے ساتھ بنائے گئے تھے۔ دس دس ہاتھ لمبے چھ چھ،سات سات ہاتھ چوڑے کچی اینٹوں کی دیواریں، کھجور کی پتیوں کی چھت وہ بھی اتنی نیچی کہ آدمی کھڑا ہو کر چھت کو چھو لیتا، اور ان کےدروازوں کی جگہ ٹاٹ کےپردےلٹکائےگئےتھے۔
سوال:۔ (۹۲) ۔سب سےپہلےکس انصاری نےحضورﷺ کواپنی زمین تحفہ کی ؟
جواب:۔ حارثہ بن نعمان انصاری نے
سوال:۔ (۹۳) ۔ حارثہ بن نعمان انصاری کی زمین کوکس استعمال میں لایا گیا؟
جواب:۔اس میں ازواجِ مطہرات کےمکانات بنائےگئے۔
سوال:۔ (۹۴) ۔ شہرِمدینہ میں ہجرت کرکےآنےوالےمہاجرین کی رہائش کا کیا انتظام کیا گیا؟
جواب:۔ مہاجرین کی سکونت کے لئے بھی حضور ﷺ نے مسجد نبوی کے قرب و جوار ہی میں انتظام فرمایا۔
سوال:۔ (۹۵) ۔اماں عائشہ رضی اللہ عنھا کانکاح کب ہوا؟
جواب:۔ آپ کا نکاح ہجرت سےپہلےمکہ میں ہوا۔
سوال:۔ (۹۶) ۔اماں عائشہ کی رخصتی کب ہوئی ؟
جواب:۔ ہجرت کےپہلےسال مدینہ میں ۔
سوال:۔ (۹۷) ۔حضورﷺ نےمہاجرین اور انصارمیں رشتۂ اخوت کیوں قائم کیا؟
جواب:۔حضورﷺ نےمہاجرین کوانصارکابھائی اس لئےبنایا تا کہ مہاجرین کے دلوں سے اپنی تنہائی اور بے کسی کا احساس دور ہوجائے اور ایک دوسرے کے مددگار بن جانے سے مہاجرین کے ذریعۂ معاش کا مسئلہ بھی حل ہو جائے۔
سوال:۔ (۹۸) ۔ مہاجرینِ مکہ کےمدینہ کےانصارنےکیاسلوک کیا؟
جواب:۔جب حضورﷺ نےمہاجرین اور انصارمیں رشتۂ اخوت قائم کیا تو انصار نے مہاجرین کو ساتھ لے جا کر اپنے گھر کی ایک ایک چیز سامنے لا کر رکھ دی اور کہہ دیا کہ آپ ہمارے بھائی ہیں اس لئے ان سب سامانوں میں آدھا آپ کا اور آدھا ہمارا ہے۔
سوال:۔ (۹۹) ۔شہرِمدینہ میں مہاجرین کوآب وہوا سےکیا ہوا؟
جواب:۔ یہاں کی آب وہوا ان موافق نہ تھی چنانچہ مہاجرین کثرت سےبیمار ہونےلگے۔
سوال:۔ (۱۰۰) ۔شہرِمدینہ کی آب وہواکی بہتری کےلئےکیاکیا؟
جواب:۔ حضورﷺ نے اس موقع پر یہ دعا فرمائی کہ یااﷲ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی ایسی ہی محبت ڈال دے جیسی مکہ کی محبت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور مدینہ کی آب و ہوا کو صحت بخش بنا دے۔

