ویلنٹائن ڈے کی حقیقت۔۔ - Asgar Ali Azhari

Latest

Asgar Ali Azhari

Heartly Welcome to our unique website . its Purpose to providing profitable Islamic quotes, Valuable articles and Motivational Stories through multiple languages as like English ,Arabic, Urdu and Hindi .... Thank you For visit ...

ویلنٹائن ڈے کی حقیقت۔۔


ویلنٹائن ڈے کی حقیقت۔۔

ویلنٹائن ڈے کیا ہے؟؟


۱۴ فروری کو پوری دنیا میں یومِ تجدید محبت منایا جاتا ہے جو کہ ویلنٹائن ڈے کے نام سے مشہور و معروف ہے۔ اس کی حقیقت کیا ہے یہ کب سے رائج ہوا؟؟ ویلنٹائن ڈے کی ابتدا۔ ان سب کے بارے میں آج ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں۔
 محمد عطاء اللہ صدیقی رقم طراز ہیں :

"اس کے متعلق کوئی مستند حوالہ تو موجود نہیں ہے البتہ ایک غیر مستند خیالی داستان پائ جاتی ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں ویلنٹائ نام کے ایک پادری تھا جو ایک راہبہ (Nun) کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوئے۔ چونکہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے لیے نکاح ممنوع تھا۔ اس لیے ایک دن ویلن ٹائن نے اپنی معشوقہ
کی تشفی کے لیے اسے بتایا گیا کہ اسے خواب میں بتایا گیا ہے کہ ۱۴ فروری کا دن ایسا ہے کہ اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ  صنفی ملاپ کرلیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جائے گا۔ راہبہ نے اس پر یقین کیا اور دونوں جوشِ عشق میں  سب کچھ کر گزرے۔ کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اُڑانے پر ان کا حشر وہی ہوا جو عموماً ہوا کرتا ہے یعنی انہیں قتل کردیا گیا۔ بعد میں کچھ منچلوں نے ویلن ٹائن صاحب کو’شہید ِمحبت‘ کے درجہ پر فائز کرتے ہوئے ان کی یادمیں دن منانا شروع کردیا‘‘۔
یہ واقعہ14فروری 279عیسوی کو پیش آیا اس کی یاد میں اس دن کو منایا جاتا ہے ۔ اسے عاشقوں کا تہوار( Lovers festival) کے طور پر کیوں منایا جاتا ہے؟ اور سینٹ ویلنٹائن سے اس کی کیا نسبت ہے؟؟
 ، اس کے بارے میں بک آف نالج کا مذکورہ اقتباس
لائق توجہ ہے : ؛" ویلنٹائن ڈے کے بارے میں یقین سے کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز ایک رومی تہوار لوپر کالیا( luper calia) کی صورت میں ہوا  ۔ قدیم رومی مرد اس تہوار کے موقع پر اپنی دوست لڑکیوں کے نام اپنی آستینوں پر لگا کر چلتے تھے۔ بعض اوقات یہ جوڑے تحائف کا تبادلہ بھی کرتے تھے۔ بعد میں جب اس تہوار کوسینٹ ’ویلن ٹائن‘ کے نام سے منایا جانے لگا تو اس کی بعض روایات کو برقرار رکھا گیا۔ اسے ہر اس فرد کے لیے اہم دن سمجھا جانے لگا جو رفیق یا رفیقہ حیات کی تلاش میں تھا۔ سترہویں صدی کی ایک پراُمید دوشیزہ سے یہ بات منسوب ہے کہ اس نے ویلن ٹائن ڈے والی شام کو سونے سے پہلے اپنے تکیہ کے ساتھ پانچ پتے ٹانکے اس کا خیال و گماں تھا کہ ایسا کرنے سے وہ خواب میں اپنے ہونے والے خاوند کو دیکھ سکے گی۔ بعد ازاں لوگوں نے تحائف کی جگہ ویلنٹائن کارڈز کا سلسلہ شروع کردیا۔

#اسلامی_نقطہ_نظر:

اسلام میں غیر مردوں اور غیر عورتوں کو ایک دوسرے سے ملاقات کرنا تحفہ وغیرہ تبدیل کرنا سخت حرام ہے۔

#مسیحیی_نقطہ_نظر:

چرچ نے ان خرافات کی ہمیشہ مذمت کی اور اسے جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی قرار دیا۔ یہی وجہ ہے عیسائی پادریوں نے اس دن کی مذمت میں سخت بیانات دیے۔ بنکاک کے ایک عیسائی پادری نے بعض افراد کو لے کر ایک ایسی دکان کو نذرآتش کردیا جس پر ویلنٹائن کارڈ فروخت ہورہے تھے۔ پاکستان میں ویلنٹائن ڈے کا تصور نوے کی دہائی کے آخر میں ریڈیو اور ٹی وی کی خصوصی نشریات کی وجہ سے مقبول ہوا۔ شہری علاقوں میں اسے جوش وخروش سے منایا جاتا ہے۔پھولوں کی فروخت میں کئی سو گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔یہی حال کارڈز کی فروخت کا ہوتا ہے۔

اس حقیقت سے ساری بات عیاں ہے کہ ایک اسلامی معاشرے میں اسی طرح کے تہواروں کو پروان چڑھانا اسلامی معاشرے میں تباہی اور بربادی پھیلانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔  ہمیں اس بارے میں بہت گہرائی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہمیں اپنی اسلامی اقدار  سے دور تو نہیں کیا جارہا!ہمیں  سوچنا چاہیے کہ کیا غیر مسلم عید کا تہوار مناتے ہیں  ؟؟ عید الفطر اور عید قربان مناتے ہیں؟؟ اس کا جواب یقیناً نہیں میں ہوگا۔ اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ ہم صرف اسلامی اقدار کو اپنائیں۔ اور غیر اسلامی تہوار کو بالکل رد کریں۔

شیئر کرنا مت بولنا ۔۔

اگر آپ مزید اسلامی واقعات اور دیگر موضوعات اور دل پر اثر کرنے والی تحریر پڑھنا چاہتے ہیں۔ تو میرا بلاگ پر ضرور وزٹ کریں اور اگر بلاگ پسند آئے تو فالو لازمی کریں۔ ان شاء اللہ میری ہر پوسٹ آپ کو ملتی رہے گی۔