قرآنی نصوحات اور فرمان رسولﷺ - Asgar Ali Azhari

Latest

Asgar Ali Azhari

Heartly Welcome to our unique website . its Purpose to providing profitable Islamic quotes, Valuable articles and Motivational Stories through multiple languages as like English ,Arabic, Urdu and Hindi .... Thank you For visit ...

قرآنی نصوحات اور فرمان رسولﷺ


قرآنی نصوحات اور فرمان رسولﷺ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارشاد ربانی ھے!
یآیٌھالٌذین امنوا قوآانفسکم واھلیکم ناراً(پ۔٢٩آیت٦)
اے ایمان والون تم اپنے آپ کو اوراپنے اہل وعیال کواس آگ سے بچاؤ۔
 محترم دینی بھائیون یہ بات زکرکرنے مین جتنی مختصر لگتی ھے اس کا خلاصہ۔مفھوم اوراسکا مطلوب اتنا ہی وسیع اور جامع ھے۔یہ بات ہم سب کومعلوم ھے کہ ہمارے جینے اد ور
 زندگی گزارنے کا قرآنی مقصد کچھ نہین سواۓ اسکے کہ ایک وحدہ لاشریک کی عبادت کی
 جاۓ۔اوراس عبادت الہی اس زکرالہی کا طریقہ ہمین تاجدارمدینہ محمدکریمﷺ نے بتلادیا
 سکھلادیا۔اس طریقہ اوراسکے قائم رھنے اوررکھنے کیلیے جولوازمات اورنعمت الہی ہمین
 مہیا ھونگی یا جن سے ہم فائدہ اٹھائین گے وہ ہماری محنتون اورجدوجھد کاثمرتو ھین لیکن
 درحقیقت منجانبﷲ اوربتوفیق الہی ھوتی ھین۔اصل بات کا لب لباب یہ کہ اس راہ مستقیم
 جوہمین ہمارے رہبرورہنماۓ اعظم محمدکریمﷺ سجھا اوربتاگۓ اسی پہ کاربند رھتے ھوۓ
 اپنی انفرادی حیثیت کومدنظر رکھنے کے ساتھ اپنی اجتماعی یاجونفوس ہماری زات کے ساتھ
 منسلک ھین انکو بھی اپنے ساتھ اپنے پیچھے رکھتے ھوۓ نجات وفلاح کی راہ دکھانا ھے۔اسی بات کو واضح طریقے سے رب ذوالجلال نے قرآن مین ایک دوسرے مقام پہ اسطرح واضح کیا۔۔۔ارشاد ربانی ھے!
ربٌنا ھب لنا من ازواجنا وذرٌیتنا قرٌۃ اعین وٌاجعلنا للمتٌقین اماما۔(الفرقان ٧٤)
 اے ہمارے رب ہمین اپنی بیویون اورہماری اولاد سے آنکھون کی ٹھنڈک بخش اورہمکوپرہیزگارون کا امام بنا۔
 یہ رتبہ بڑا عظیم ھے کہ آپ اپنے گھروالون کیلیے امام بن جائین۔اس سے یہ بھی معلوم ھواکہ
امام صرف وہ نہین جومساجدمنبرومحراب کے مقتداء ھین بلکہ یہ لفظ امام دراصل رہنمائ اورسیدھے راستہ پہ ترتیب وڈسپلن اورپابندی کے ساتھ چلانے والا ہروہ شخص ھے جواپنے
 ماتحت،گھروالے یا جن کا بھی وہ سرپرست اورزمہ دار ھے انکودین وآخرت کے راستہ کی
 صحیح اورنیک راہ پہ چلاۓ۔صرف زاتی نہین کہ خود تووہ پنج وقتہ صلاۃ وصوم اورخیر
 وبھلائ کا داعی ھے بلکہ گھر سے باھریاجو بھی اسکی استطاعت مین ھے وہ داعیءخیربنتا
 ھے لیکن گھروالے اسکی اس نیک روش سے محروم رھتے ھین۔گھر مین کئ قسم کی خرافات
 جسمین ٹی وی اوراس پہ چلنے والے غیراخلاقی پروگرام کہ جن سے وہ گھروالون کوروک نہ
سکے۔پھرانٹرنیٹ۔موبائل کمپیوٹر انکے حصے ان سب کے منفی پہلو جوکہ سب کومعلوم ھین
 ان سے وہ روک نہ سکے۔گھروالون کوپردہ اورحجاب کی باریکیون سے آگاہ نہ کرسکے۔آجکل
 توچھوٹے بچون کیلیے کارٹون کے نام پہ جوچیز دکھائ جاتی ھے۔وہ گربالغان بھی دیکھین
توشرماجائین۔توان بچون کی اٹھان مین اس زہرکوبہنے سے کون روک سکتا ھےپھرگھرمین
 بدعات وشرکیہ کامون کے علاوہ مغربی اورھنودکی ثقافت کے نام پہ انکے رسم ورواج اور
 تہوار کاگھرکرلینا۔یہ توچندایک نمونے بگاڑکے ھین۔اصل خرابیان اورنقصانات توکافی ھین۔
 پھرسب سے بڑھ کریہی کہ آپ انکوغیرشرعی غیراسلامی کامون۔باتون حتی کہ مروج زبان
 الفاظ جوکہ انکی فلمون پروگرامون کی وجہ سے زبان زدعام ھوچکے ھین سے نہ روک سکین
 اورانکی راہ مین سب سے بڑی رکاوٹ ”قرآن وسنت واحادیث رسولﷺ کا پیغام نہ دے سکین
نہ انہین اس کی طرف بلانے کی کوشش کرین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ مقام امامت آپکو کب حاصل ھوگا!

 جب آپ قرآن سنت اوراحادیث رسولﷺ کے سچے متبع اورپیروکاربن جائین اوراپنے گھرکے
 ایک ایک فرد بچون سے لیکربزرگ بیوی بیٹی بہن سے لیکرمان تک کو اپنے اندازواطواراور
 رنگ ڈھنگ مین ڈھال لین گے توہی آپکو یہ دو بڑے مرتبے دنیا کے اوردین وآخرت کے ملینگے۔
 اول یہ کہ دنیا مین اپنے گھروالون کی سچی رہنمائ کرنے کی وجہ سے انکے امام ثابت ھونگے
 دوسرے یہ کہ انکونیک اعمال خیروبھلائ پہ چلتا دیکھ کرآپکوایک ایسی خوشی نصیب ھوگی
 کہ جسکی وجہ سے وہ آپکیلیے اطمینان دلون اورآنکھون کے چین وسکون کاباعث بن جائینگے
 دوسرا اس سے بھی بڑافائدہ اورابدی فائدہ یہ حاصل ھوگا آپ اپنے ساتھ اپنے گھروالون کو
بھی جھنم کی ہیبتناکی اوردہشتناکی سے بچالینگے۔اوراسکیلیے آپ کواپنے گھروالون اہل خانہ کے ساتھ نرم وپراخلاق اورسردوگرم مین ساتھ دینے والا ثابت کرنا ھوگا ۔جیسا کہ رسولﷺ
 کافرمان بھی یہی ھے کہ اپنے گھروالون کے ساتھ خوش اخلاقی اورنرم گوئ سے رھو اورتم
 مین (پوری کائنات مین)اپنے گھروالون کیلیےسب سے بھترین مین ھی ھونا(متفق علیہ)

اس حوالے سے امام الانبیاء محمدکریمﷺ کے چندفرمودات !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گناہ گار ھونے کیلیے کافی!
رسولﷲﷺ نے فرمایا!
 انسان کے گناہ گار ھونے کیلیے یہی کافی ھے کہ جنکے خرچے کا وہ زمہ دار ھے انکی خوراک
 روک دے(صحیح مسلم)
بیوی بچون پہ خرچ!
رسول رحمتﷺکافرمان ھے!
 کہ اگرکوئ شخص اپنے بیوی بچون کیلیے اجروثواب کی نیت سے خرچ کرے گا تویہ اسکیلیے
صدقےکے اجروثواب کے برابرھوگا(بخاری ومسلم)
ﷲﷻ کی رضا حاصل کرنے والا!
رسول رحمتﷺ کافرمان ھے!
 جوچیز بھی توﷲﷻکی رضا حاصل کرنے کی نیت سے کرے گا تجھے اجرملے گاحتی کہ وہاں
 لقمہ جواپنی بیوی کے منہ مین تونے ڈالا اسکا بھی اجرھے(صحیح بخاری)

سب سے افضل کمائی!

رسول رحمتﷺ نے فرمایا!
 ایک وہ دینارجوﷲکے راستے مین تونے خرچ کیا۔دوسرا وہ جوغلام آزاد کرنے مین اورتیسرا
اپنے اہل وعیال کیلیے خرچ کیا ان مین سے اہل وعیال پہ خرچ کرنا افضل ھے۔(صحیح مسلم)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حاصل کلام!

 کہ اپنی اصلاح کے ساتھ اپنے اہل وعیال کی اصلاح مین فلاح پنہان ھے ساتھ ھی اس کوانکی
 پرورش اورانکے معاش وکھانے پینے رہن سہن کی زمہ داریون کوبحسن خوبی پوراکرناھے۔
 اوراس عمل مین اسکیلیے دھرااجرھے اسطرح کہ ایک توانکی ضروریات پوری کرنے پہ وہ آپکے
 مشکور اورمرہون منت ھونگے۔دوسرے یہ کہ اس عمل کے نتیجے مین آپ اجروثواب بے بہا
 پانے کے ساتھ رسول رحمتﷺ کی اس بشارت کے بھی حقدارھونگے کہ ”روزقیامت مجھے
 سب سے عزیز اورقریب وہ لوگ ھونگے جوسب سے زیادہ بااخلاق ھونگے(سنن بیہقی)
اورگھر والون کی دیکھ بھال انکے تمام مسائل سے نمٹنے والاانکوخیروبھلائ کی طرف لیکر
 چلنے والا بالیقینی ایک بااخلاق اورباایمان شخص ہی ھوسکتا ھے۔۔۔۔۔وما توفیقی الاباﷲ