بابری مسجد حقیقت سے افسانہ , بابری مسجد کی مکمل تاریخ - Asgar Ali Azhari

Latest

Asgar Ali Azhari

Heartly Welcome to our unique website . its Purpose to providing profitable Islamic quotes, Valuable articles and Motivational Stories through multiple languages as like English ,Arabic, Urdu and Hindi .... Thank you For visit ...

بابری مسجد حقیقت سے افسانہ , بابری مسجد کی مکمل تاریخ

بابری مسجد۔۔۔۔۔۔۔۔ حقیقت سے افسانہ

بابری مسجد کی مکمل تاریخ , History of babri masjid
بابری مسجد حقیقت سے افسانہ , بابری مسجد کی مکمل تاریخ


بات ان دنوں کی ہے۔۔۔۔۔۔ 15 پندرہویں صدی کی شروعات ہو چکی تھی ہندوستان میں ایک نئی سلطنت کی بنیاد رکھی جا رہی تھی جو کہ مغلیہ سلطنت کے نام سے مشہور ہوئی، شہنشاہ ظہیر الدین بابر کے توپ کی گرج ہندوستان کے راجاؤں کی نیند اور راج پاٹ دونوں کو لے اُڑا تھا ، اور ایک نئی فضاء قائم ہو چکی تھی

 اب وقت تھا کہ کو حکومت کو منظم کیا جائے تو اسے سلسلہ میں گورنر کا انتخاب عمل میں آیا ہر علاقے کے گورنر مقرر کیئے گئے، اودھ کے گورنر مقرر ہوئے ٫٫ میر باقی،، ان کا تعلق موجوہ ازبکستان سے تھا جہاں کے لوگ تعمیراتی فنون کے ماہر ہوا کرتے تھے، تو میر باقی نے بھی اپنی تعمیراتی صلاحیت جو کی اس کے خمیر میں تھی اس کا مظاہرہ کیا اور ایک بڑی ہی خوبصورت اور قابل دید مسجد کی تعمیر کی اور شہنشاہ ہندوستان ظہیر الدین بابر کی طرف منسوب کرتے ہوئے اس کا نام ٫٫  بابری مسجد ،، رکھا 
  شب و روز کا پہیہ اپنی رفتار سے گھومتا رہا سرزمین ہندوستان نے مغلیہ سلطنت کے یک بعد دیگرے شہنشاہوں کا مشاہدہ کرتا ہوا اپنے زوال کی طرف بڑھ رہا تھا 1800ء کا زمانہ تھا تقریباً تقریباً انگریزی حکومت کا تسلط قائم ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اور اب زمانہ تھا 1855ء کا بابری مسجد سے تقریباً ایک کلو میٹر دور ایک مندر تھا جس کا نام ہنومان گڑھی تھا اور ہے بھی ، اس پر مسلمانوں کا یہ اعتراض تھا کہ یہ مندر ایک مسجد کو شہید کر کے تعمیر کی گئی ہے، اس پر مسلمانوں نے مکمل ایک تحریک چلائی جس کی رہبری غلام حسین صاحب فرما رہے تھے اور انہوں نے پانچ سو یا سات سو مسلمانوں کے ساتھ مل کر اس مندر کو مسجد میں تبدیل کرنے کے لیئے نکل پڑے لیکن مسلمانوں کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اکثر لوگ قتل کر دئیے گئے اور جو بھاگ سکے بھاگ لئے اور ان میں سے کچھ لوگ نے چھپنے کے لئے بابری مسجد کا سہارا لیا ٫٫ ہندو،، کیوں کہ کثیر تعداد میں تھے انہوں نے بابری مسجد میں گھس کر بقیہ مسلمانوں کو قتل کر دیا اور واپس چلے گئے
 k.n.panikkar اپنی کتاب Anatomy of a Confrontation: Ayodhya and the Rise of Communal Politics in India 
 
اور اسی طرح Dr Faizan mustafa اپنے legal awareness web series میں کہتے ہیں کہ ہندؤں کا مسلمانوں کو مسجد میں مار کر واپس چلا جانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ 1855ء سے پہلے بابری مسجد پر رام جنم بھومی ہونے کی کوئی دعویداری نہیں تھی یہ صاف ظاہر ہو گیا 
 اب دیکھیں ہوا کچھ یوں کی مسلمانوں کا یہ قتل عام جو ہندؤں نے کیا تھا یہ معاملہ طول پکڑ گیا ۔۔۔۔۔اور پھر کورٹ نے بھی مندر سے پہلے مسجد ہونے کی بات کو تسلیم نہیں کیا تو حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے ، انگریزی حکومت نے یہ راستہ نکالا کہ اب ہنومان گڑھی کو تو توڑا نہیں جا سکتا پر ہاں اس کے سامنے ایک مسجد بنا دی جائے گی 
  اس بات نے ہندؤں میں کھلبلی مچادی اور وہ اس چیز کو قطعاً برداشت نہیں کر پا رہے تھے ۔۔
تو اب انہوں نے ایک میٹنگ کی اور ایک زبردست لائحہ عمل تیار کیا اور یہ قرار پایا کی ہم بھی مسلمانوں کی ایک مسجد پر مندر توڑ کر مسجد بنانے کا الزام عائد کریں گے تا کہ وہ ہنومان گڑھی کو چھوڑ کر اپنی مسجد بچائیں 
  1857ء میں اس قرارداد پر عمل کرتے ہوئے ہندؤں نے فیض آباد ڈسٹرکٹ کورٹ میں یہ اپیل کر دی اور اس بات کو انگریزی حکومت نے بھی ہوا دے دی کیونکہ اسی سال ہندؤ مسلم اتحاد کے ساتھ بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں انگریزوں سے جنگ لڑی جانے والی تھی تو اس موضوع نہیں اتحاد کو زبردست حد تک ٹھیس پہنچایا اور فائدہ انگریز حکومت نے اٹھا لیا ، اور ہندو کی طرف سے نرموہی اکھاڑا کے مہنت رگھو برداس نے بابری مسجد کے صحن میں ایک چبوترہ بنانے میں کامیابی بھی حاصل کر لی اور ہندؤں نے جیسا پلان بنایا تھا بلکل اسی طرح مسلمان اپنی مسجد بچانے میں لگ گئے ، مولوی اصغر علی صاحب نے 1858 ء پہلی مرتبہ مقدمہ درج کروایا کہ ہندؤں نے ایک چبوترہ بنا لیا ہے اور یہ شکایت مسلسل 1860ء میں 1883ء میں 1884ء میں دی جاتی رہی اسی درمیان میں انگریزی حکومت نے ایک بڑا ہی عجیب اور اکثریت کی خوشامد حاصل کرنے کے لئے ایک فیصلہ دیا کہ مسجد اور اس چبوترہ کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی گئی 
   پھر86، 1885ء رگھو رداس مہنت نے اس چبوترہ پر ایک چھوٹا سا مندر بنانےکی درخواست پیش کی جو کہ خارج کر دیا گیا ( پر یاد رکھیں یہ جھگڑا ابھی تک بس اس چبوترہ کا تھا جسے کورٹ نے تین مرتبہ خارچ کر دیا تھا بات ابھی تک مکمل مسجد کی نہیں آئی ہے) اور پہر اسی طرح دن گزرتے گئے ۔۔
اب اختصار کے ساتھ ہم آتے ہیں آزادی کے وقت میں , ہندوستان کو آزادی ملنے والی تھی اور ساتھ ساتھ دو قومی نظریہ پر بھی عمل کرتے ہوئے ملک ہندوستان 1947 میں دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور اس کے بعد ہندوستان اپنے ملک کے نفاذ قانون کے لئے کوشاں تھا جو کہ سیکولرزم پر منحصر تھا لیکن اسی درمیان1949 کی تاریخ میں جب کہ قانون کے نفاذ کو ابھی ایک مہینہ بھی نہیں ہوا تھا
 دوسری طرف ایودھیا میں قانون کی دھجیاں اڑاتے ہو مسجد بابری میں چوروں کی طرح رات میں گھس مرکزی گنبد کے نیچے مورتی رکھ دی گئی اور یہ سب ہوا ڈسٹرکٹ ایڈمیسٹریشن کے موجودگی میں جس کا ذکر kirashna jha نے اپنی کتاب Ayodhya The Dark Night : The Secret History of Rama's Appearance In Babri Masjid میں کرتے ہیں اور پھرجس کے بعد ایک بڑا ہنگامہ برپا ہوا جس وجہ سے مسجد کے صدر دروازے کو بند کر دیا گیا لیکن چار پجاری کو پوجا ارچنا کی اجاز حاصل رہی  
اور اب یہ معاملہ ایک خطرناک موڑ پر پہنچتا ہے۔۔۔۔۔
اندرا گاندھی کے قتل کے بعد راجیو گاندھی کی حکومت بھاری اکثریت سے منتخب ہوتی ہے اور اسی درمیان شاہ بانو کا کیس سپریم کورٹ پہنچ جاتا ہے جس میں مسلم پرسنل لاء بلا وجہ کود جاتا ہے، اور پھر یوں ہوا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مسلم پرسنل لاء کے خلاف آتا جس کے نتیجے میں مقررین کرام کے شعلہ بیانی سے ملک گیر احتجاج شروع ہو جاتا ہے ، اور ادھر وشو ہندو پریشد نے بھی ملکی سطح پر بابری مسجد کا تالا کھولنے کے لئے احتجاج شروع کر دیاتھا
 اور اب شروع ہوئی سیاست جو وقت کے قائدین کے سر کے اوپر سے گزر گئی
ہوا کچھ یوں کی راجیو گاندھی کی حکومت نے شاہ بانو کیس کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو پارلیمنٹ میں تبدیل کر دیا اور اس کے عوض وشو ہندو پریشد کی خوشامد کی خاطر بابری مسجد کا تالا 1986 میں کھول دیا اور یہ سب ہو ایک منظم شازش کے تحت جسے ہم محسوس کرنے سے قاصر رہے ۔۔ 
1990 میں لال کرشن اڈوانی نے رتھ یاترا نکالی اور اس رتھ یاترا کی لہر نے 1991 میں اتر پردیش کی حکومت بی جے پی کی سونپ دی...
 اور پھر آئی وہ رات جس کی صبح نہایت ہی ڈراؤنی تھی اور تاریخ ہندوستان کے سیکولرزم اور اور غیر جانبدار عدالتی نظام کو امتحان گاہ میں گھسیٹ کر لانے والی تھی یہ صبح تھی 6 دسمبر 1992کی ملک بھر سے لاکھوں کارسیوک ایودھیا میں اکھٹا ہو کر بابری مسجد کو شہید کر ڈالا
  وہ خوبصورت تعمیر جسے میر باقی نے بڑے ارمان سے کھڑا کیا تھا ظالموں نے 

اسے زمین بوس کر دیا
 1994۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں بابری مسجد انہدام کے تعلق سے مقدمہ کا آغاز ہوا اور 30 ستمبر 2010 ۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے ایک عجیب وغریب فیصلہ سنایا، جس کے تحت متنازعہ زمین کو تین حصو ں میں تقسیم کر تے ہوئے ایک حصہ رام مندر، دوسرا سنی وقف بورڈ اور تیسرا نرموہی اکھاڑے کو دے دیا ۔۔
 پھر مسلم پارٹی سپریم کورٹ پہنچ گئی ، 9 مئی 2011 سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی۔
 اور پھر مسلمانوں کے لیئے اور ملک ہندوستان کے دستور اور عدالتی نظام اور سیکولرزم کے لئے آیا ایک اور سیاہ دن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سپریم کورٹ نے دستاویزات کو نظر انداز کرتے ہوئے اکثریت طبقہ اور موجودہ حکومت کے دباؤ میں آکر بابری مسجد کی جگہ پر مندر بنانے کا فیصلہ سنایا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس طرح بابری مسجد حقیقت سے افسانہ ہو گئی ، اور ہم ہاتھ ملتےرہ گئے ، 
 اب آئین تھوڑا دیکھتے ہیں کی آخر وجہ کیا رہی جو ہم 1855 سے مسلسل ہزیمت کا سامنے کرتے آ رہے ہیں اور ہر جگہ پر ہمیں اوندھے منہ گرنا پڑا اور اگر ہم نے اٹھ کر پھر کوشش بھی کی تو اور زبردست ٹھوکر نے ہمیں دو چار کیا ۔
 کیا ان سب سوالوں کا جواب صرف ہمارا اقلیت میں ہونا ہے ؟ 
 تو جواب ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلکل بھی نہیں 
 اگر ہم اپنی ناکامیوں کا جائزہ لیں تو سب سے اہم چیزجو نکل کر آئےگی وہ یہ ہے کہ ہم میں دور اندیشی اور عدم برداشت کی بہت بڑی کمی رہی ہے 1855 میں جب کی مغلیہ سلطنت کا تقریباً زوال ہو چکا تھا تو ایسے وقت میں ہنومان گڑھی معاملہ کو ہوا دینا اپنے موت کو دعوت نامہ بھیجنے کے مترادف تھا جو کہ ہوا بھی ۔۔۔۔تقریباً500 مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور اس کے بعد رگھوبر داس کی دور اندیشی اور چالبازی نے بابری مسجد کو بھی متنازع بنا دیا اور ہم دیکھتے رہ گئے 
 اور پھر 1949 میں مورتی رکھ دی گئی ، مسجد کو تالا لگا دیا گیا لیکن 4 پوجاری کو پوجا ارچنا کی اجازت دی گئی تب تک ہمیں بدحواسی نے ہوش کے ناخن نہ لینے دئیے ، بلکہ اس وقت پارلمینٹ میں ہمارے بڑے بڑے اکابرین موجود تھے جن کا جنگ آزادی میں زبردست کردار تھا ، اور ان لوگوں نے دو قومی نظریہ کی بھی جم کر مخالفت کی تھی
 اس کے بعد آیا ایک نیا دور جس میں سامنے آیا شاہ بانو کا کیس ، اور اس وقت جو اکابرین اور قائدین نے غیر ذمداری کا مظاہرہ کیا وہ ناقابل فراموش ہے
  اور ایک وقت کے رہبر میں کیسے اتنی زبردست عدم دور اندیشی پائی جا سکتی ہے ؟؟؟؟؟؟ یہ میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے
   ہم نے اپنی پوری توجہ اس کیس پر مرکوز کر لی (جو کہ ایک غیر ضروری عمل تھا ) اور راجیو گاندھی کی خفیہ شازش کے تحت ہمارے ہاتھ سے بابری مسجد نکل گئی ، اور اس کے بدلے میں ہمیں ملا کیا ؟ بس شاہ بانو کیس کو پارلیمنٹ میں تبدیل کروا دیا گیا ، 
   اب نتیجہ کیا نکلا وہ دیکھیں ۔۔۔ بابری مسجد تو ہاتھ سے گئی ہی گئی ۔۔۔۔۔ ہمیں طلاق ثلاثہ کے معاملے میں بھی زبردست منہ کی کھانی پڑی ، سپریم کورٹ نے غیر قانونی تو کہا ہی کہا۔۔ گورمنٹ نے اس فعل کو جرم ثابت کرتے ہوئے 3 سال کی قید مع جرمانہ کا بل پیش کر دیا 
  (نوٹ) میرا مقصد بلکل کسی پر طعن و تشنیع نہیں بلکہ صرف ماضی میں کی گئی غلطیوں سے سبق حاصل کر اپنے مستقبل کو سنوارنا ہے ۔۔۔
  ان پورے معاملات کو اگر دیکھیں چاہیے وہ طلاق ثلاثہ ہو، یا بابری مسجد کیس ہمارے پاس ایک اپنا مسلمان وکیل نہیں تھا جو بذات خود اپنے معاملات کا دفاع کر سکے ۔۔
   ہے نا افسوسکا مقام ؟ 
   جس قوم کو علم وفضل کا وارث بنایا گیا تھا ، جس قوم کو پہلی مرتبہ لفظ (اقرا) سے مخاطب کیا گیا تھا ، جس کے قرآن نے قلم کی قسم کھائی ہو اس قوم کا کوئی ترجمان نہیں ہے۔۔ افسوس
    جس کو ہم جاھل اور گنوار پیشاب پینےوالی گوبر ملنے والی قوم کہتے پھرتے تھے آج ہم پر وہ اس قدر غالب ہیں گویا کہ ہم اپنے مذہب کے روح کو ہی گنوا چکے ہوں ، اور وہ ہم پر ہی نہیں آج پوری دنیا میں ان کا بول بالا قائم ہو رہا ہے متحدہ عرب امارات اپنی سرزمین ان کے عبادتگاہ کے لئے کھول دیئے ، پاکستان جو دنیا کا واحد ملک ہے جس کا قیام مذہب اسلام کے نام پر ہوا تھا اس کے دارالحکومت میں ایک نئی مندر بنائی جا رہی ہے اور پاکستان کے وزیر اعظم نے اس عالمی وباء کے وقت میں بھی 100 ملیون روپیہ کا اعلان کیا ہے ، یہ سب ممکن ہوا ٫٫ آر ایس ایس،، کی انتھک محنت کے نتیجے میں، اور اس کے ارادے مستقبل کو بھی ہموار کرتے نظر آتے ہیں
      اور اس کے مقابلے میں ہمارے پاس کوئی بھی ایک مستحکم تنظیم نہیں ہے جو قوم کی صحیح رہنمائی کرتے ہوئے اسے ایسے راستےپر ڈال سکے جس کی کوئی منزل ہو 
اگر اتنے ٹھوکر کھانے کے بعد بھی ہم نہ سنبھل پائے اور اپنے تعلیمی ، معاشرتی، اور اقتصادی راہداری پر عمل پیرا نہ ہوئے تو یاد رکھیں یہ سرزمین ہندوستان اسپین کی تاریخ دہرانے میں شاید زیادہ دیر نہ کرے ، خدارا ہوش کے ناخن لیجئے یہ تو بابری ہے اگلی باری ، متھرا، اور ٫ کاشی ،کی ہے، اور نا جانے کتنی عبادت گاہیں ہیں جن پر ان کی بری نگاہ ٹکی ہے 
ابھی بھی وقت ہے سنبھل جاؤ اے ہندی مسلمانوں 
نہیں تو داستان تک نہ ہوگی تمہاری داستانوں میں